
ویتنام نے بنگلادیش کو ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ میں میں پیچھے چھوڑ دیا
اسلام علیکم دوستو کیسے ہو آپ سب امید کرتا ہوں آپ سب ٹھیک ہوں گے تو آج ہم آپ کے ساتھ بات کرنے والے ہیں کہ ویتنام نے بنگلہ دیش کو گارمنٹس کے ایکسپورٹ میں پیچھے چھوڑ دیا ۔
بنگلہ دیشی دنیا کا سیکنڈ لارجیسٹ گارمنٹس مینوفیکچر ہے کیوں کہ زیادہ تر بنگلہ دیش سے ہی کپڑے باہر ممالک میں جاتے ہیں یہ ایشیا کا سیکنڈ لارجسٹ گارمنٹس ایکسپورٹر ہے ایک رپورٹ کے مطابق جب قوم نائنٹین 2020 کو آیا تھا تو وہاں پر بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ 28 بلین یو ایس ڈالر کی جبکہ ویتنام 29 بلین ڈالر کے ساتھ اوورٹیک کر گیا بنگلہ دیش کو جبکہ بتایا جاتا ہے کہ چائنہ کے بعد بنگلہ دیشی ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ کپڑے کی صنعتیں ہیں ۔
بنگلہ دیش2010 سے اپنی پوزیشن کو ہولڈ رکھا ہے جبکہ پاکستان انڈیا اور ویتنام کی پوزیشن بالکل نیچے طبقے میں آتا ہے کچھ عرصہ قبل یعنی کرونا وائرس کے دوران پاکستان کی بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں کافی اچھا رزلٹ دیکھنے کو ملا اگر ہم بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل سیکٹر سے پاکستان کی ٹیکسٹائل سیکٹر سے کمپئر کرے تو پاکستان کی ٹیکسٹائل سیکٹر بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل سیکٹر سے بالکل عدا ہے یعنی پاکستان کی کل ٹیکسٹائل سیکٹر کی آمدنی 15 بلین ڈالر ہے جب کہ بنگلہ دیش کی 30 بلین کے قریب ہے ۔
اگر ہم ویتنام ان کی بات کریں تو وہ بھی پاکستان سے بالکل زیادہ تقریبا 25 بلین ڈالر کے قریب ہے جب کہ گزشتہ دنوں کورونا کے دوران ویتنام نے بنگلادیش کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ماہرین کا کہنا ہے کہ ویت نام کی انڈسٹری بہت جلد ہی گروہ کر رہی ہے اور یہ 2022 کے شروعات تک 35 ملین ڈالر کراس کر جائے گی ۔
